اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آغاز بہار پر سال نو کے پہلے روز 21 مارچ کی شام کو حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کے لاکھوں زائرین و مجاورین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نئے سال کے دوران اس سال کے مخصوص شعار "دو چند ہمت، دوچند محنت" کے نفاذ کے مختلف امکانات کا جائزہ لیا اور انقلاب اسلامی کے چوتھے عشرے یعنی "عشرہ پیشرفت و عدالت" کے عوامل اور ضروریات کی تشریح کرتے ہوئے انتخابات کے بعد رونما ہونے والے واقعات میں دشمنوں کی سازشوں کے مد مقابل ملت ایران کی وحدت و یکجہتی کا شکریہ ادا کیا اور فرمایا: اللہ کے فضل سے اس کے بعد بھی ملت کے مقدرات فتحمندی اور کامیابی اور دشمن کا مقدر شکست اور پسماندگی ہوگا۔ حرم امام رضا علیہ السلام میں رہبر معظم کے خطاب کے مکمل متن کا اردو ترجمہ ملاحظہ ہو:
بسماللہالرّحمنالرّحيمالحمد للَّہ ربّ العالمين و الصّلاة و السّلام على سيّدنا و نبيّنا ابىالقاسم المصطفى محمّد و على الہ الأطيبين الأطہرين المنتجبين الہداة المہديّين المعصومين المكرّمين سيّما بقيّةاللہ فى الأرضين
جان کی گہرائےوں سے اللہ تعالی کا شکرگزار ہوں جس نے توفیق عنایت فرمائی کہ ایک بار پھر اور ایک سال پھر حضرت ابوالحسن علی بن موسی الرضا صلوات اللہ و سلامہ علیہ کی بارگاہ میں اس پاک و مقدس سرزمین کے زائر اور مجاور بھائیوں اور بہنوں کے پاس حاضر ہوں اور آپ بھائیوں اور بہنوں کے دیدار سے بہرہ مند ہورہا ہوں۔ ابتداء میں پوری ملت ایران کو سال نو کی آمد اور عید نوروز کے موقع پر تبریک و تہنیت عرض کرتا ہوں اور اسی مناسبت سے بعض عرائض پیش کرتا ہوں۔ سب سے پہلی بات جو عرض کرنا چاہتا ہوں اسلامی جمہوری نظام اور اسلامی جمہوری نظام کے قیام کے 31 سال پورے ہونے کے حوالے سے مقدس اسلامی نظام اور حکومت اسلامی کی ایک قرآنی تعریف ہے۔ اسلامی حکومت کی اساس اور اس حکومت کا اہم اور مرکزی معیار ایمان کے استقرار؛ اللہ پر ایمان، انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات پر ایمان، اور اس صراط مستقیم پر گامزن ہونے سے عبارت ہے جو خدا کے پیغمبروں نے انسانوں کے سامنے رکھا۔ انسانوں کی ہدایت و راہنمائی کے لئے انبیاء کی بعثت اور پوری تاریخ میں ـ آج تک ـ دینی اور الہی معاشروں کی تشکیل اولاً اسی مقصد کے لئے ہے؛ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: "انّا ارسلناك شاہدا و مبشّرا و نذيرا۔ لتؤمنوا باللہ و رسولہ و تعزّروہ و توقّروہ و تسبّحوہ بكرة و اصيلا"۔(1) یعنی انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا مقصد اللہ پر ایمان، ذات خداوندی اور اللہ کی راہ سے وابستہ ہوجانا، اور ان تعلیمات پر عمل پیرا ہونا جو انبیاء الہی نے انسانوں کو تعلیم دی ہیں۔ یہ سورہ مبارکہ "فتح" (انا فتحنا) میں ہے۔ سورہ مبارکہ احزاب میں ارشاد ربانی ہے: "انّا ارسلناك شاہدا و مبشّرا و نذيرا۔ و داعياً الى اللہ"۔(2) پیغمبر (ص) کی ذمہ داری اور آپ (ص) کا مشن اللہ کی طرف دعوت ہے۔ یہی کام کی بنیاد ہے۔ جو چیز نظام اسلامی اور اسلامی معاشرے اور تمام انسانی معاشروں میں معیار کے عنوان سے موجود ہے ابتدائی طور پر یہی نکتہ ہے؛ اللہ پر ایمان کا مسئلہ، ایمان بالغیب کا مسئلہ، اس راہ پر ایمان کا مسئلہ جو خداوند متعال نے انسان کی دنیاوی اور اخروی سعادت و خوشبختی کی غرض سے انسان کے سامنے رکھی ہوئی ہے۔ اگر آج اسلامی جمہوری نظام دنیا کے مختلف نظام ہائے حکومت کے سامنے کچھ بول سکتا ہے، اسلامی جمہوری نظام کے پاس اگر آج دنیا کے مختلف نظاموں کے سامنے اگر کسی قوت کو للکارنے کی قوت ہے تو وہ اسی لئے ہے کہ بنیادی معیار اللہ پر ایمان ہے۔ آج انسان بے ایمانی کی وجہ سے زندگی کی مختلف بھنوروں اور دلدلوں میں گھرا ہوا ہے۔ لہذا بنیادی معیار ایمان ہے۔ اللہ پر ایمان اور راہ خدا پر ایمان اور راہ انبیاء پر ایمان ـ جس کے بعد ان تعلیمات پر عملدرآمد کا مرحلہ ہے ـ صرف معنوی کمال و ارتقاء کے لئے نہیں ہے؛ اگرچہ اس کا اہم ترین ثمرہ معنوی ترقی اور انسانی و اخلاقی ارتقاء ہے کیونکہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے (3) دنیا کی زندگی میں محنت و حرکت سے ہی انسان مدارج و معارج طے کرتا ہے اور آگے کی طرف پیشقدمی کرتا ہے۔ چنانچہ مادی زندگی بھی اللہ پر ایمان کے مرہون منت ہے۔ پس اللہ پر ایمان نہ صرف انسانی کی معنوی اور روحانی زندگی کی ضمانت دیتا ہے بلکہ اس کی مادی سعادت کے موجبات بھی فراہم کرتا ہے۔ خدائے متعال پر ایمان اس بات کا موجب بنتا ہے کہ انسان اپنی مادی زندگی کی تمام ضروریات حاصل کرسکے۔ "و لو انّہم اقاموا التّورية و الانجيل و ما انزل اليہم من ربّہم لأكلوا من فوقہم و من تحت ارجلہم»؛(4) اگر دین کو قائم کیا جائے، اگر اسلامی تعلیمات معاشرے میں نافذ ہوجائیں انسان رفاہ و فلاح کے حوالے سے اس درجے پر فائز ہوجائیں گے جہاں ان کی ایسی کوئی بھی ضرورت باقی نہ رہے گی جو پوری نہ ہوگئی ہو۔ معنوی اور نفسیاتی آسائش کے لحاظ سے، امن و سکون کے احساس کے لحاظ سے، پھر بھی ایمان کا کردار بہت اہم ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: "قد جائكم من اللہ نور و كتاب مبين۔ يہدى بہ اللہ من اتّبع رضوانہ سبل السّلام»؛(5) قرآن ہے انسان کو صحت و سلامتی، سکون، نفسیاتی امن و سلامتی کی تعلیم دیتا ہے؛ یہ وہی راستہ ہے جو انسان کو نفسیاتی امن و سکون تک پہنچا دیتا ہے؛ یعنی یہ وہی چیز ہے جس کی عدم موجودگی کی بنا پر آج پوری دنیا ملتہب اور مضطرب ہے۔ مادی ترقی ہوئی ہے، تکنیکی اور سائنسی ترقی ہوئی ہے، معاشروں کے پاس بے حد و حساب دولت موجود ہے؛ مگر آسائش نہیں ہے، سکون نہیں ہے۔ یہ سب اسی بنیادی عنصر کی عدم موجودگی کا نتیجہ ہے جس کا نام ہے "ایمان"، یہ قرآن کریم کے مطابق ایک اصولی بات ہے جو اسلامی جمہوریہ میں اور آپ، ہماری ملت کے تمام افراد، ہمارے تمام نوجوانوں اور آگے کی طرف بڑھنے والی تمام نسلوں کو ـ جن کا ہدف اپنے ملک اور اپنے بچوں کے لئے سعادت بھری زندگی فراہم کرنا ہے ـ اس کی طرف توجہ دینی کی ضرورت ہے۔ اسلامی نظام میں تمام امور کی اساس ایمان ہے اور اس ایمان کو یقینی بنانا چاہئے؛ نہ صرف دل اور قلب کے اندر بلکہ عمل میں، تمام منصوبوں اور پروگراموں میں اور تمام اقدامات میں۔ اسلامی جمہوری نظام کے قیام کا بتیسواں سال جارہا ہے؛ یعنی اس عشرے کا دوسرا سال ہے جس کو "عشرہ پیشرفت و عدالت" کا نام دیا گیا ہے۔ پیشرفت و عدالت کا نعرہ ایک بنیادی اور مرکزی نعرہ ہے؛ ایک بنیادی موضوع ہے؛ ایک ضرورت ہے۔ اس مرحلے میں ہماری ملت عزیز اور ہمارے سرکاری حکام کا بڑا ہدف پیشرفت و عدالت ہونی چاہئے۔ "پیشرفت" اور "عدالت" (عدل و انصاف) ایسے دو مطالبات ہیں جن کی انسان کو اشد ضرورت ہے۔ پیشرفت یعنی علم و عمل ـ اور دنیا میں ایک معاشرے کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہے ـ کے لحاظ سے مطلوبہ نتائج تک پہنچا جائے۔ "عدالت" یعنی انسانوں کے درمیان کوئی امتیاز نہ ہو، ناانصافی نہ ہو، ظلم نہ ہو۔ دونوں مطالبات بنی نوع انسان کی اساسی، بنیادی اور دیرینہ مطالبات میں سے ہے۔ جب سے انسانی تاریخ تھی، یہ دو مطالبات انسان کے بنیادی مطالبات تھے۔ یہ نعرے اٹھائے جاسکتے ہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ کس وقت ان نعروں کو عملی جامہ پہنایا جاسکتا ہے؟ ہم نے اسلامی جمہوری نظام میں اس چوتھے عشرے کو ان دو نعروں پر عملدرآمد کے لئے مناسب پایا۔ ترقی اور پیشرفت کو حقیقی معنوں میں حاصل کیا جاسکتا ہے۔ عدل و انصاف کا حصول بھی اسی طرح سے ہے اس حقیقت کے پیش نظر کہ معاشرہ تیزرفتار شعور و ارتقاء پارہا ہے، ہمارے عوام بحمداللہ آگہی اور بصیرت کے مالک بن گئے ہیں، رکاوٹوں کو پہچان گئے ہیں، اہداف کو پہچان گئے ہیں، ہمارے نوجوان دوست اور دشمن میں تمیز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اگر کوئی عہدیدار عدل و انصاف کا خواہاں ہے تو وہ ہمارے معاشرے میں مکمل عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے تمہیدات فراہم کردے۔ البتہ یہ کام قلیل المدت نہیں ہے ایک طویل المدت کام ہے چنانچہ اس عشرے کو عشرہ پیشرفت و عدالت قرار دیتے ہیں اس عشرے میں جو بھی منصوبہ بندی ہوتی ہے جو بھی اقدام ہوتا ہے یہ دو عناصر ملحوظ رکھی جانی چاہئیں اور یہ اقدامات اور منصوبہ بندیاں معاشرے کی پیشرفت و ترقی کی سمت بھی ہوں عدل و انصاف کف قیام کی سمت بھی ہوں۔ ملک کی قابلیتیں اور آمادگیاں بہت زیادہ ہیں۔ میرے عزیزو! ان تیس برسوں میں ملک و ملت نے تمام شعبوں میں ترقی کی ہے۔ ایک عظیم اور بنیادی حرکت کے لئے ـ ایک ایسی حرکت کے لئے جس کے اثرات کو عوام کی زندگی میں محسوس کیا جاسکے ـ تمام وسائل فراہم ہیں۔ ہم نے معیشت کے لئے بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کے حوالے سے بڑی ترقی کی ہے، مواصلات اور ارتباطات کے بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کے سلسلے میں عظیم کام انجام پائے ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کی رفتار میں کچھ عرصے سے زبردست تیزی آئی ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں؛ سائنسی شعبوں میں، ہمارے نوجوان، ہماری جامعات سے وابستہ اہل دانش اور ہمارے اہم سائنسدان اور دانشور بعض ایسے مراحل تک پہنچ رہے ہیں جو ایک ایسے ملک کے لئے ـ جو سائنس و علم و تحقیق اور ٹیکنالوجی اور تخلیقات سے دور رہا ہے ـ بہت ہی عجیب چیز ہے۔ عزیز نوجوانو! آج آپ کے ملک میں ایسی چیزوں کی کوئی کمی نہیں ہے جو آپ کے ملک کو دنیا کے پہلی دس ملکوں یا پہلے آٹھ ملکوں کے زمرے میں لاکھڑا کردیتے ہیں۔ مختلف شعبوں میں، بائیو سائنسز کے شعبے میں، نانو ٹیکنالوجی کے شعبے میں، خلائی سائنسز کے شعبے میں، مختلف علوم و فنون میں، آپ دیکھ رہے ہیں ملکی سانئسدان ـ جن کی اکثریت ان ہی با نشاط اور جوش و جذبے سے سرشار نوجوانوں پر مشتمل ہے ـ اس ملک کو اس حد تک پہنچانے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ ایران اِس شعبے میں دنیا کے پہلے آٹھ ملکوں کی صف میں کھڑا ہوگیا ہے اور اُس شعبے میں ایران دنیا کے پہلے دس ملکوں کے زمرے میں کھڑا ہو گیا ہے؛ یہ بہت عظیم پیشرفت و ترقی ہے یہ ملک کے لئے ایک نہایت اہم مقام و مرتبت ہے۔ علاقائی اور بین الاقومی اعتبار و قوت کے شعبے میں آج اسلامی جمہوری نظام اور ہمارے ملک میں اسلامی سسٹم ممالک کی نگاہوں میں اتنا مقتدر اور اہم اور بارعب ملک بن چکا ہے کہ ہمارے دشمن بھی اعتراف کرتے ہیں کہ اعتبار کے لحاظ سے اسلامی جمہوریہ ایران اپنے ہم سطح ممالک اور دنیا کے اثر گذار ممالک میں برترین ملک سمجھا جاتا ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ بین الاقوامی اور سیاسی اعتبار کے حوالے سے خطے میں پہلے درجے کا ملک ہے۔ وہ لوگ جن کے بارے میں بہترین تعبیر یہ ہے کہ وہ "کوتاہ بین" ہیں اور باریک بینی کی قوت سے محروم ہیں، آپ بھی ان سے سنتے ہیں کہ اگر کسی مغربی استکباری ملک کے سربراہ یا فلان وزیر خارجہ یا فلان بین الاقوامی اہلکار نے ایران کے بارے میں بدگوئی کی ہو، تو یہ لوگ ان کے اقوال کو اسلامی جمہوری نظام کی بے اعتباری کا سبب گردانتے ہیں؛ یہ خطا اور غلطی ہے۔اسلامی جمہوریہ آج اقوام کی نظر میں، حکومتوں کی نظر میں